دم سے
معنی
١ - (کسی کی) وجہ سے، ذات کے باعث، پڑھنے پھونکنے سے۔ "دلی کی آخری بہار انہیں بزرگوں کے دم سے تھی۔" ( ١٩٦٧ء، اجڑا دیار، ١٢٩ ) ٢ - اللہ پاک کے نور سے، اس کے حکم کے سبب۔ تیرے ہی لفظ کن سے گونجا پیام ہستی قائم ترے ہی دم سے سارا نظام ہستی ( ١٩٨٤ء، الحمد، ٣٧ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد 'دم' کے ساتھ سنسکرت سے ماخوذ حرف جار سے لگایا گیا ہے اردو میں بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٣٣ء کو "دیوان رند" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - (کسی کی) وجہ سے، ذات کے باعث، پڑھنے پھونکنے سے۔ "دلی کی آخری بہار انہیں بزرگوں کے دم سے تھی۔" ( ١٩٦٧ء، اجڑا دیار، ١٢٩ )